Labels

Update:
تونسہ شریف (نامہ نگار ) تونسہ کے علاقہ بستی بولانی کے نزدیک ہینڈگرنیڈ پھٹنے سے دوکمسن بھائی جاں بحق ، اور ان کی نانی زخمی ہوگئی ، پولیس نے بچوں کے والد کو گرفتار کرلیا

Tuesday, 22 April 2014

  1. کوئٹہ: فائرنگ سے تین افراد ہلاک، ایک زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مر کزی شہر کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔


خیبر پختونخوا میں پولیس نشانے پر، چھ ہلاک متعدد زخمی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دو شہروں میں دس گھنٹوں میں پولیس پر دو حملے کیے گئے ہیں جن میں پانچ اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک اور 28 افراد زخمی ہو گئے ہی


Saturday, 19 April 2014

                    
کیا فوجی آپریشن ناگزیر ہے؟    
         
حکومت پاکستان کے طالبان سے مذاکرات جاری ہیں۔ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی آخری تاریخ بھی قریب ہے۔ حکومت نے کئی غیر عسکری طالبان بھی رہا کر دئیے ہیں لیکن طالبان مطمئن نہیں۔ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کن لوگوں کو رہا کیا گیا ہے یہ ہمارے لوگ نہیں۔ طالبان یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدہ نہیں اور یہ بھی کہ شہباز تاثیر اور علی حیدر گیلانی ان کے قبضے میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے کے آغاز کے بعد صرف اسلام آباد دو بار دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد کچہری میں فائرنگ اور فروٹ منڈی میں دھماکہ کئی بے گناہوں کی جانیں لے گیا اور حکومت بے بس نظر آئی۔ پورا ملک دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں جسے چاہیں مار کر چلے جاتے ہیں اور حکومت اور انتظامیہ اپنا سر کھجاتی رہ جاتی ہے۔مذاکرات کے ہونے یا نہ ہونے پر سیاسی جماعتیں تقسیم ہو چکی ہیں اور مذاکرات کے طریقہ کار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہیں۔ ہر طرف ایک کنفیوژن ہے اور ہر کسی کے ذہنوں میں کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مذاکرات تو جاری ہیں لیکن یہ کن نکات پر ہو رہے ہیں؟ آئینی حیثیت کیا ہے؟طالبان کے اصل مطالبات کیا ہیں؟ کیا براہ راست مذاکرات کی نوبت آئے گی؟ کیا مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد طالبا ن گروپس ہتھیار پھینک دیں گے؟ کیا طالبان کو عام معافی دی جائے گی؟ اگر ہاں تو کس قانون کے تحت؟ اور پچاس ہزار افراد جو دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کا قصاص کون دے گا اور کیسے؟ کس پر ذمہ داری عائدہو گی؟ کیا مذاکرات کے بعد ملک بھر میں مذہبی مجالس، محافل، جلوس ،مذہبی مقامات ، مزارات اور خانقاہیں محفوظ ہو جائیں گے؟ کیا طالبان پاکستان کے مروجہ آئین اور طرز حکومت کو تسلیم کر لیں گے؟ کیا طالبان ان کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کرنے والوں کی نشان دہی کریں گے؟ یاد رکھیں شہباز تاثیر اور علی حیدر گیلانی بھرے شہر سے اغوا ہوئے تھے اور اغوا کارقانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے سے انہیں مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر نا معلوم مقامات پر لے گئے چنانچہ کیا مذاکرات کے بعد شہروں میں ان کا یہ انفرا سٹرکچر حکومت کے سامنے بے نقاب ہو گا بھی یا نہیں؟ کیا مذاکرات میں طالبان پاکستان میں کسی غیر ملکی مداخلت کی معلومات اور ثبوت حکومت کو دیں گے؟ کیا ایسے گروپوں کی معلومات دیں گے جو پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کر رہے ہیں؟ مذاکرات اگر کامیاب ہوئے اورپھربھی دہشت گردی جاری رہی تو پھر کس کو ذمہ دار قرار دیں گے؟کیا حکومت ایک کے بعد ایک گروپوں سے ان کے مطالبات پر ان سے بھی مذاکرات کریگی؟ یقینا نہیں۔۔ تو پھر کسی نہ کسی سطح پر کئی گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن ناگزیر ہونگے جنہیں ہر صورت میں کامیاب بھی ہونا ہوگا جس کی مدت کا تعین بھی آسان نہیں ہوگا۔ آپریشن کے دوران ملک بھر میں معمولات زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے کئی ضروری اورحفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوگی تو کیا پاکستانی عوام ، نجی ادارے، تاجر، وفاقی و صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے اس ناگزیر آپریشن کے لئے تیار بھی ہیں
   

Tuesday, 18 February 2014

almanzoo news 18-2-14











کالاشہر ۔۔تھانہ کالا کے علاقہ میں زمین کے تنازعہ پر چار افراد نے فائرنگ کرکے دو بھائیوں کو زخمی کردیا تفصیلات کے مطابق بستی سربانی میں حافظ محمد ابراہیم اور محمد اسماعیل سُربانی جوکہ بھائی ہیں نے ذاتی رقبہ میں پانی لگا رکھا تھا کہ اچانک محمد عثمان ،محمد سلیمان ،محمد عمر اور ریاض احمد سُربانی موٹر سائیکل آگئے آتے ہی فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گولی لگنے سے حافظ محمد ابراہیم شدید زخمی ہوگیا جبکہ اس کے بھائی محمد اسماعیل کوکسی کے وار کرکے زخمی کردیا گیا زخمیوں کو آر ایچ سی شادن لُنڈ لایا گیا لیکن ہسپتال میں ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہسپتال ریفر کردیا گیا،دونوں فریق آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان کے درمیان عرصہ دراز سے اراضی کا تنازعہ چلا آرہاتھا ، ہسپتال میں ڈاکٹر ز کی سہولت میسر نہ ہونے پر زخمیوں کے ورثاء نے محکمہ صحت کے افسران کے خلاف شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اتنے بڑے علاقہ میں ایک ہسپتال ہے مگر طبی سہولیات سے وہ بھی محروم ہے زخیموں کے بیان پر کالا پولیس نے قانونی کارروائی شروع کردی ہے
................................................................




شادن لُنڈ ۔۔منڈی مویشیاں پل قمبر میں غنڈہ ٹیکس کی وصولی پر درجنوں رکشہ ڈرائیوروں کا احتجاج ،ایک گھنٹہ انڈس ہائی وے بند ،ایس ایچ اوتھانہ صدر تونسہ کی یقین دہانی پر روڈ کھول دیا گیا ،تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر تونسہ کے علاقہ پل قمبر میں ہفتہ وار منگل کے روز لگنے والی منڈی مویشیاں میں عرصہ دراز سے غنڈہ ٹیکس وصولی کا سلسلہ جاری ہے جس میں بیوپاری سے لیکر حجام ،خوانچہ فروش اور چھوٹے سے چھوٹا کاروبار کرنے والوں حتیٰ کہ انڈس ہائی وے پر چلنے والے رکشہ ڈرائیوروں سے زبردستی فی چکر 20روپے غنڈہ ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں نہ دینے والوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ پیسے بھی چھین لئے جاتے ہیں دن دیہاڑے ہونے والی اس غنڈہ گردی کے خلاف متعدد بار احتجاج کئے گئے مقامی انتظامیہ اور منڈی کے ٹھیکیدار کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا مگر غنڈہ گردی ختم نہ ہو سکی منڈی موشیاں کو دوسری جگہ بھی شفٹ کرنے کیلئے ٹھیکیدار اور ضلعی انتظامیہ کو درخواستیں دی گئیں مگر مافیا نے منڈی کو دوسری جگہ منتقل نہ ہونے دیا گزشتہ روز رکشہ ڈرائیوروں نے غنڈہ ٹیکس دینے سے انکار کردیا جس پر غنڈہ ٹیکس وصول کرنے والوں نے رکشہ ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور منڈی مویشیاں سے رکشوں کو زبردستی بھگادیا جس پر رکشہ ڈرائیوروں نے شادن لُنڈ ریلوے ٹریک پرروڈ بند کردیا اور غنڈہ گردی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرہ بازی کی ایک گھنٹہ انڈس ہائی بند رہنے کے بعد ایس ایچ اوتھانہ صدر تونسہ مو قع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ آئندہ غنڈہ ٹیکس وصولی کے خلاف پولیس خود کاروائی کرے گی اور منڈی مویشیاں میں موجود رہے گی اس سے قبل بھی پولیس تھانہ صدر نے پل قمبر میں ویگن ڈرائیروں سے غنڈہ ٹیکس وصولی بند کرادی تھی اس یقین دہانی کے بعد روڈ کھول دیا گیا، رکشہ ڈرائیور یونین کے صدر بہار حسین ریاض احمد ،محمد عارف ،محمد شاہد ،محمد صفدر ،غلام اکبر ،سراج احمد ،غلام محمد ،نور محمد اور محمد صادق سمیت درجنوں ڈرائیوروں نے مظاہرہ میں شرکت کی اس موقع پر رکشہ ڈرائیوروں ودیگر بیوپاریوں، کاروباری اور تجارتی طبقہ نے ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ سے اپیل کی کہ منڈی مویشیاں پل قمبر کی بجائے کسی دوسری جگہ شفٹ کی جائے
2

Thursday, 13 February 2014

Sunday, 9 February 2014

۔شادن لُنڈ اور کالا رورل ہیلتھ سنٹر

  1. video
    ۔شادن لُنڈ اور کالا میں رورل ہیلتھ سنٹرمیں ڈاکٹر ز نہ ہونے کے باعث تمن لُنڈ کی 80ہزار کی آبادی علاج معالجہ کی بنیادی سہولت سے محروم ہے دونوں ہیلتھ سنٹرز میں عرصہ 8ماہ سے ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے روزانہ سینکڑوں مریض آتے ہیں لیکن ڈاکٹرز نہ ہونے کے باعث مایوس ہوکر پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے آر ایچ سی کالا کی شاندار بلڈنگ محکمہ صحت کے افسران کا منہ چڑا رہی ہیہسپتال میں ویرانی کا یہ عالم کہ مرہم پٹی کی سہولت تک نہ ہے حکومت پنجاب ایک طرف ہر شہری کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کرنے دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف 80ہزار لوگ علاج معالجہ کی مفت سہولتوں سے محروم ہیں دونوں سنٹر انڈس ہائی وے پر واقع ہیں آئے روز حادثات ہوتے ہیں اس کے علاوہ لڑائی جھگڑے میں زخمی ہونے والوں کو مایوس ہوکر ڈسٹرکٹ ہسپتال جانا پڑتا ہے جوکہ شادن لُنڈ سے پچاس کلو میٹر دور ہے اہل علاقہ نے محکمہ صحت کے افسران اور منتخب نمائندوں سے دونوں سنٹروں میں ڈاکٹرز کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے
    Back to Conversion Tool

Friday, 7 February 2014

news papere



شادن لُنڈ (نمائندہ خصوصی) تھانہ کوٹ مبارک کے علاقہ قصبہ یارو میں پولیس مقابلہ ،ایس ایچ او کوٹ مبارک سمیت چار پولیس اہلکار شہید ،ڈی ایس پی ملک اعجاز زخمی ،جوابی فائرنگ سے موقع پر اشتہاری مجرم حیدر عیسانی مارا گیا ،تفصیلات کے مطابق کوٹ مبارک پولیس کو اطلاع ملی کہ قتل اور ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ربنواز گجنی اور حیدر سیسانی گھر میں موجود ہیں جس پر پولیس کی بھاری نفری نے قصبہ یارو کے قریب ان کے گھر ریڈ کیااور بستی کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا اور پولیس حیدر عیسانی کے گھر داخل ہوگئی ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں نے کمروں کی تلاشی لینا شروع کردی لیکن حیدر عیسانی نہ ملا آخر کار کمرہ میں موجود جستی پیٹی جس کو آگے سے تالے لگے ہوئے تھے اور پیچھے سے اوپن تھی شک گزرنے پر پولیس نے اسے چیک کرنے کیلئے جونہی اس کا ڈھکن اٹھایا تو حیدر عیسانی پیٹی کے اندر پوزیشن لئے بیٹھا تھا نے برسٹ چھوڑ دیا جس کے نتیجہ میں ایس ایچ او کوٹ مبارک شفیق خان ملغانی ہیڈ کانسٹیبل نور محمد ،کانسٹیبل محمد عرفان اور گن مین ڈی ایس پی فیض الحسنین شہید ہوگئے جبکہ ڈی ایس پی ملک اعجاز زخمی ہوگئے جوابی فائرنگ کے نتیجہ میں اشتہاری مجرم حیدر عیسانی مارا گیا واقعہ کی اطلاع پر پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے اور ڈیڈ باڈیز کو پوسٹ مارٹم کیلئے ڈستڑکٹ ہسپتال منتقل کرد یا گیا یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی شفیق خان ملغانی پولیس مقابلہ کے دوران زخمی ہوگئے تھے

Sunday, 2 February 2014

newspaper

 ایک سو پچانوے کلو وزنی پتھر اٹھانے کا مظاہرہ کیا جا رہاہے

User Traffic