کراچی پریس کلب نے صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی شدید مذمت کردی

Ticker

20/recent/ticker-posts-on

کراچی پریس کلب نے صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی شدید مذمت کردی

کراچی پریس کلب نے صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی شدید مذمت کردی


کراچی (المنظور نیوز): کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے پریس کلب جانے والے راستوں کی بندش اور صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کو "صحافت کی آزادی پر حملہ" قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔


پریس کلب کی جانب سے احتجاجی بیان

فاضل جمیلی نے اپنے بیان میں کہا کہ "پریس کلب تک رسائی روکنے اور صحافیوں کی آمدورفت پر پابندی لگانا قانونی طور پر ناجائز ہے۔ یہ اقدام میڈیا کی آزادی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔" انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کو فوری طور پر اس غیر قانونی عمل کا نوٹس لینا چاہیے اور کراچی پریس کلب تک رسائی کے تمام راستے بحال کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہئیں۔


پولیس کا موقف

دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس کے قریبی علاقے میں ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے عارضی رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گورنر ہاؤس والے روڈ پر ڈبل ٹریفک سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کچھ راستے بند کرنا پڑے۔ تاہم، پریس کلب کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام صحافیوں کے کام میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔


صحافتی تنظیموں کا ردعمل

اس معاملے پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) سمیت دیگر صحافتی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ "صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر کسی بھی قسم کی پابندی جمہوری اقدار کے منافی ہے۔"


مزید کارروائی کا امکان

ذرائع کے مطابق، اگر پولیس انتظامیہ نے فوری طور پر پریس کلب کے راستے نہیں کھولے تو کراچی پریس کلب کی جانب سے احتجاجی مہم شروع کی جاسکتی ہے۔ صحافتی تنظیمیں اس معاملے کو عدالت تک لے جانے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔


آخر میں...

یہ واقعہ ایک بار پھر "صحافت کی آزادی" اور "حکومتی اداروں کے رویے" پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ شہری حقوق کے علمبرداروں کا مطالبہ ہے کہ صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے کے لیے مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔


اس معاملے کی مزید پیش رفت پر آنے والے دنوں میں نئی اپ ڈیٹس متوقع ہیں۔


Post a Comment

0 Comments