فطرانہ (صدقۂ فطر) کن پر واجب ہے؟
صدقۂ فطر (فطرانہ) رمضان المبارک کے اختتام پر ہر مسلمان پر واجب ہوتا ہے جو درج ذیل شرائط پر پورا اترتا ہو:
1. مسلمان ہونا:
فطرانہ صرف مسلمانوں پر واجب ہے، غیر مسلموں پر نہیں۔
2. صاحبِ نصاب ہونا:
فطرانہ اس شخص پر واجب ہے جو "صاحبِ نصاب" ہو، یعنی:
اس کے پاس اساسی ضروریات (رہائش، کپڑے، گاڑی، اوزار) سے زائد اتنا مال ہو جو ساڑھے سات تولہ سونا (تقریباً 87.5 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (تقریباً 612.5 گرام) یا اس کی مالیت کے برابر ہو۔
اگر کسی کے پاس یہ مقدار نہیں، تو فطرانہ واجب نہیں۔
3. وقت کی شرط:
فطرانہ رمضان کے آخری دن غروب آفتاب سے لے کر عید کی نماز تک ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص عید کی نماز سے پہلے فطرانہ نہ دے سکے، تو بعد میں بھی ادا کر سکتا ہے، لیکن اسے قرض سمجھا جائے گا۔
4. بالغ اور عاقل ہونا:
نابالغ بچوں یا پاگلوں پر فطرانہ واجب نہیں، لیکن ان کے والدین یا سرپرست ان کی طرف سے فطرانہ دے سکتے ہیں۔
5. فطرانہ دینے والے پر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ذمہ داری:
ہر صاحبِ نصاب شخص پر اپنا فطرانہ دینا واجب ہے۔
اگر کوئی شخص اپنے نابالغ بچوں، غیر شادی شدہ بیٹیوں، یا ماں باپ کی کفالت کرتا ہے، تو ان کی طرف سے بھی فطرانہ ادا کرنا ضروری ہے۔
فطرانہ کسے دیا جائے؟
فطرانہ غرباء و مساکین (غریب اور ضرورت مند مسلمانوں) کو دیا جاتا ہے۔ یہ زکٰوۃ کے مستحقین جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن عام طور پر عید سے پہلے ضرورت مندوں تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
نوٹ:
اگر کوئی شخص سفر یا بیماری کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکا، لیکن صاحبِ نصاب ہے، تو اس پر بھی فطرانہ واجب ہے۔
فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے، لیکن اگر کوئی بھول جائے یا تاخیر ہو جائے، تو بعد میں بھی ادا کر سکتا ہے۔
خلاصہ: فطرانہ ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو اور رمضان المبارک کے اختتام پر زندہ ہو۔ یہ غریبوں کی مدد اور عید کی خوشیوں میں انہیں شریک کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
0 Comments