اوکاڑہ: حافظ قرآن کے قتل کا ہولناک معمہ حل، بیٹی نے اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ہلاک کیا

Ticker

20/recent/ticker-posts-on

اوکاڑہ: حافظ قرآن کے قتل کا ہولناک معمہ حل، بیٹی نے اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ہلاک کیا

 اوکاڑہ: حافظ قرآن کے قتل کا ہولناک معمہ حل، بیٹی نے اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ہلاک کیا

تفصیلی رپورٹ

اوکاڑہ: حافظ قرآن کے قتل کا ہولناک معمہ حل، بیٹی نے اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ہلاک کیا


اوکاڑہ — پولیس نے تھانہ صدر کے اندرون شہر واقعے میں حافظ اللہ دتہ کے قتل کا پراسرار معمہ حل کر لیا ہے، جس میں حیرت انگیز موڑ یہ سامنے آیا کہ قتل کی ملزمہ متوفی کی اپنی بیٹی ام حبیبہ نکلی۔ پولیس کے مطابق، ملزمہ نے اپنے والد کو پسٹل سے فائر کر کے ہلاک کیا تھا۔


واقعے کی تفصیلات

قاتلانہ حملہ: 3 روز قبل رات گئے گھر میں فائرنگ کی آواز سنائی دی


ہلاکت: حافظ اللہ دتہ موقع پر ہی دم توڑ گئے


فرار: ملزمہ اور اس کی والدہ ابتدا میں واقعے کو چھپانے کی کوشش کرتی رہیں


قاتل کی شناخت اور وجہ

پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ:


تنازعہ کی وجہ: ملزمہ ام حبیبہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی، جس پر باپ نے مخالفت کی تھی


تشدد کی تاریخ: گھر میں اس تنازعے پر پہلے بھی جھگڑے اور مارپیٹ ہو چکے تھے


قاتلانہ حملہ: شدید جھگڑے کے دوران ملزمہ نے غصے میں آ کر والد کو گولی مار دی

اوکاڑہ: حافظ قرآن کے قتل کا ہولناک معمہ حل، بیٹی نے اپنے ہی باپ کو گولی مار کر ہلاک کیا


پولیس کی کارروائی

سائنسی تفتیش: جدید ٹیکنالوجی سے 72 گھنٹے میں کیس کو سلجھایا گیا


آلہ قتل برآمد: قتل میں استعمال ہونے والا پسٹل ملزمہ کے کمرے سے برآمد


اعتراف جرم: ملزمہ نے تفتیش میں اپنا جرم تسلیم کر لیا


اعلیٰ افسران کا موقف

ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا:


"ہم نے ٹھوس شواہد کے ساتھ کیس مرتب کیا ہے"


"ملزمہ کو سزا دلوانے کے لیے عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جائے گا"


"کسی کو بھی ناحق قتل کی اجازت نہیں دی جائے گی"


سماجی ردعمل

مقامی رہنماؤں اور علماء نے اس واقعے پر گہرا افسوس کا اظہار کیا ہے:


"اولاد کا والدین کے ساتھ ایسا سلوک اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے" — مولانا عبدالستار


"خاندانی تنازعات کا حل گفتگو میں ہے، تشدد میں نہیں" — سماجی کارکن ثناء اللہ


عدالتی کارروائی

ملزمہ اور اس کی مددگار والدہ کے خلاف:


دفعہ 302 (قتل) کے تحت مقدمہ درج


دونوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا


مزید تفتیش جاری


حافظ اللہ دتہ کا تعارف

متوفی جامعہ نعیمیہ کے استاد اور حافظ قرآن تھے۔ مقامی سطح پر انہیں معزز شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔


اختتامی نوٹ

یہ المناک واقعہ خاندانی تنازعات کے تشدد کی طرف بڑھنے کے خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے مسائل کے حل کے لیے:


خاندانی بزرگوں سے مشورہ کریں


پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں


عدالتی نظام پر بھروسہ رکھیں


مزید تفصیلات کے لیے تھانہ صدر اوکاڑہ یا ڈسٹرکٹ پولیس آفس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


Post a Comment

0 Comments