اندھیر نگری | بیوقوفوں کے شہر کی انوکھی کہانی
کسی زمانے میں "اندھر نگری" نامی ایک عجیب شہر تھا۔ یہاں کے لوگ اتنے بیوقوف تھے کہ ان کی حماقتیں سن کر ہر کوئی حیران رہ جاتا۔ شہر کا اصول تھا: "جو جیسا چاہے، ویسا کرے، بغیر سوچے سمجھے!"
ایک دن شہر میں ایک مسافر آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک آدمی درخت کے نیچے کھڑا ہے اور پتھر سے اپنے ہی سر پر مار رہا ہے۔ مسافر نے پوچھا: "یہ تم کیا کر رہے ہو؟"
وہ بولا: "میرے سر میں درد تھا، سوچا پتھر ماروں تو درد نکل جائے گا!"
مسافر حیران ہوا، مگر چلا گیا۔
تھوڑا آگے اس نے دیکھا کہ لوگ ایک کنویں کے پاس کھڑے ہیں اور ایک بلی کو اندر پھینکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ مسافر نے وجہ پوچھی تو ایک شخص بولا: "کنویں کا پانی گندا ہو گیا ہے، ہم نے سنا ہے کہ بلی پھینکنے سے پانی صاف ہو جاتا ہے!"
مسافر نے کہا: "یہ تو محض ایک کہاوت ہے، اصل میں ایسا نہیں ہوتا!"
مگر لوگوں نے اس کی بات نہ مانی اور بلی کو کنویں میں ڈال دیا۔
شہر کا راجا بھی اتنا ہی بیوقوف تھا۔ اس نے ایک دن اعلان کیا: "کل سے ہر شخص اُلٹا چلے گا، تاکہ ہمارے شہر کا نام دنیا میں مشہور ہو!"
لوگوں نے بغیر کچھ سوچے اُلٹا چلنا شروع کر دیا۔ اگلے دن ایک گدھا راجا کے محل کے سامنے سے گزرا اور اُس نے بھی اُلٹا چلنے کی کوشش کی، مگر گر کر مر گیا۔ راجا نے کہا: "دیکھو! یہ گدھا بھی ہماری تقلید کر رہا تھا، مگر ناکام رہا۔ ہم تو بہت عقلمند ہیں!"
مسافر نے آخرکار شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ باہر نکلتے ہوئے اس نے شہر کے دروازے پر لکھا:
"اندھر نگری، چوپٹ راجا۔
جے کوئی آئے، تو سیدھا بھاگا!"
اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ بے سوچے سمجھے کام کرنا اور دوسروں کی اندھی تقلید کرنا انسان کو بیوقوف بنا دیتا ہے۔ عقلمند وہی ہے جو اپنی عقل سے کام لے۔
0 Comments