فیصل آباد میں بین المذاہب افطار تقریب، امن اور رواداری کے پیغامات

Ticker

20/recent/ticker-posts-on

فیصل آباد میں بین المذاہب افطار تقریب، امن اور رواداری کے پیغامات

 فیصل آباد (نمائندہ رپورٹ) — کیتھولک کمیشن برائے انٹر فیتھ ڈائیلاگ اینڈ ایکوینم اور نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کے زیر اہتمام آج یہاں مقامی ہوٹل میں مختلف ادیان و مذاہب کے رہنماؤں کے اعزاز میں ایک خصوصی بین المذاہب افطار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور یوم پاکستان کی مناسبت سے امن، بھائی چارے اور بین المذہبی ہم آہنگی کے پیغامات دیے گئے۔



تقریب کی صدارت اور مہمانان خصوصی

معروف مسیحی رہنما ریورنڈ فادر خالد رشید عاصی (ریجنل ڈائریکٹر، نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس) کی دعوت پر منعقدہ اس پروگرام میں جملہ مکاتب فکر اور ادیان کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانان خصوصی میں شامل تھے:


علامہ سکندر حیات ذکی (امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث فیصل آباد ڈویژن)


مولانا حافظ خبیب احمد اور مولانا ریاض احمد کھرل (ضلعی امن کمیٹی فیصل آباد)


سید حسنین رضا شیرازی (شیعہ رہنما)


رانا مظہر مشتاق (سماجی کارکن)


ڈاکٹر افتخار احمد نقوی (دانشور)


مولانا خرم حسین سیفی (سنّی رہنما)


ڈاکٹر رحمت اندریاس (بشپ آف فیصل آباد)


پروفیسر ڈاکٹر انجم جیمس پال (ماہر تعلیم)


ڈاکٹر شاہد گل (وکیل)


عبدالصمد معاذ (صحافی)


مقررین کا خطاب: امن، رواداری اور قومی یکجہتی کے پیغامات

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے رمضان المبارک کی روحانی برکتوں اور یوم پاکستان کے موقع پر قومی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔


ریورنڈ فادر خالد رشید عاصی نے کہا کہ "پاکستان تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے۔ ہمیں فرقہ واریت اور تعصبات سے بالاتر ہو کر اتحاد، محبت اور برداشت کا پیغام پھیلانا چاہیے۔"


علامہ سکندر حیات ذکی نے کہا کہ "اسلام ہمیں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ بین المذاہب مکالمہ معاشرے میں امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔"


ڈاکٹر رحمت اندریاس نے کہا کہ "مذہبی رہنماوں کا یہ اجتماع پیغام دیتا ہے کہ ہم سب ایک ہی قوم ہیں۔ ہمیں مل کر نفرت اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔"


افطار اور اجتماعی دعا

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اجتماعی افطار کیا اور ملک و قوم کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے دعائیں کیں۔ شرکاء نے اس طرح کے پروگراموں کو مزید وسعت دینے پر زور دیا تاکہ پاکستان میں امن اور برداشت کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔


اختتامی نوٹ

یہ تقریب نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی ایک عمدہ مثال تھی بلکہ اس نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے تمام شہری، خواہ کسی بھی مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، مل کر ایک پرامن معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں۔


Post a Comment

0 Comments