جڑانوالا میں مسیحی خاتون کو بے گھر کر دیا گیا، جوان بیٹیوں سمیت بازار میں رہنے پر مجبور

تازہ ترین

بریکنگ نیوز
  • 1۔ تونسہ انڈس ہائی وے پر حادثات کی شرح میں اضافہ۔
  • تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی، مریض مشکلات کا شکار
  • تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا حتمی شیڈول جاری
  • تونسہ بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اچانک اضافہ
  • مقامی کھیلوں کے فروغ کے لیے نئے اسٹیڈیم کی تعمیر کا فیصلہ
  • سوشل میڈیا پر تونسہ کے ٹوٹے ہوئے روڈز کی ویڈیوز وائرل
  • دریائے سندھ کے کنارے حفاظتی بند مضبوط کرنے کا مطالبہ تیز
  • شہر بھر میں شجرکاری مہم کے تحت لاکھوں پودے لگانے کا ہدف
  • ٹیکنالوجی کانفرنس: نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
  • تونسہ میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر شہریوں کا احتجاج
کریں"; var target = document.getElementById("adsense-content"); var paragraphs = target.getElementsByTagName("p"); if (paragraphs.length > 3) { var wrapper = document.createElement('div'); wrapper.innerHTML = adsenseCode; insertAfter(wrapper, paragraphs[Math.floor(paragraphs.length / 2)]); }

جڑانوالا میں مسیحی خاتون کو بے گھر کر دیا گیا، جوان بیٹیوں سمیت بازار میں رہنے پر مجبور

 

جڑانوالا میں مسیحی خاتون کو بے گھر کر دیا گیا، جوان بیٹیوں سمیت بازار میں رہنے پر مجبور

جڑانوالا (ڈسٹرکٹ رپورٹر) – جڑانوالا کے ایک علاقے میں ایک مسیحی خاتون کو اس کے گھر سے بے دخل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ بازار میں رہنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ متاثرہ خاتون نے حکومت سے انصاف اور تحفظ کی فوری فراہمی کی دُہائی دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر گھر سے نکالا گیا اور اب وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگ اور سوشل میڈیا پر صارفین نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور حکومتی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

متاثرہ خاندان نے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے انصاف کی اپیل کی ہے تاکہ انہیں ان کے قانونی حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے اور دوبارہ گھر میں سکون سے رہنے کا موقع مل سکے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ملک میں اقلیتی کمیونٹی کے حقوق اور ان کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری کارروائی کرے اور متاثرہ خاتون اور اس کے بچوں کو تحفظ فراہم کرے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے