طالبان نے خواتین کی تحریر کردہ کتابوں پر پابندی عائد کر دی

تازہ ترین

بریکنگ نیوز
  • 1
  • پاکستان افغانستان کشیدگی میں شدید اضافہ
  • بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی نئی لہر
  • تونسہ بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اچانک اضافہ
  • مقامی کھیلوں کے فروغ کے لیے نئے اسٹیڈیم کی تعمیر کا فیصلہ
  • سوشل میڈیا پر تونسہ کے ٹوٹے ہوئے روڈز کی ویڈیوز وائرل
  • دریائے سندھ کے کنارے حفاظتی بند مضبوط کرنے کا مطالبہ تیز
  • شہر بھر میں شجرکاری مہم کے تحت لاکھوں پودے لگانے کا ہدف
  • ٹیکنالوجی کانفرنس: نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
  • تونسہ میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر شہریوں کا احتجاج
کریں"; var target = document.getElementById("adsense-content"); var paragraphs = target.getElementsByTagName("p"); if (paragraphs.length > 3) { var wrapper = document.createElement('div'); wrapper.innerHTML = adsenseCode; insertAfter(wrapper, paragraphs[Math.floor(paragraphs.length / 2)]); }

طالبان نے خواتین کی تحریر کردہ کتابوں پر پابندی عائد کر دی

 کابل، افغانستان: افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کے لکھے ہوئے مواد پر ایک نئی پابندی عائد کر دی ہے، جس کے تحت خواتین کی تحریر کردہ کتابوں کی اشاعت، تقسیم اور فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں تعلیمی اور ثقافتی

طالبان نے خواتین کی تحریر کردہ کتابوں پر پابندی عائد کر دی

آزادی پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق، طالبان حکام نے کہا ہے کہ یہ پابندی "اسلامی اصولوں کے مطابق" نافذ کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین تعلیم اور حقوقِ نسواں کی تنظیمیں اس اقدام کو خواتین کی تخلیقی آزادی اور علمی سرگرمیوں کے لیے ایک سنگین دھچکہ قرار دے رہی ہیں۔

افغان کتاب فروشوں اور ناشروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے نفاذ سے نہ صرف خواتین مصنفین کی آمدنی متاثر ہوگی بلکہ ملک میں تعلیمی مواد اور ادب کی موجودگی بھی محدود ہو جائے گی۔ کئی ناشرین نے اس اقدام کو عالمی سطح پر افغانستان کی ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کے لیے پیچھے دھکیلنے والا قرار دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لکھے ہوئے مواد پر پابندی، نہ صرف صنفی عدم مساوات کو بڑھائے گی بلکہ نوجوان نسل کے لیے معیاری اور متنوع تعلیمی وسائل تک رسائی بھی محدود کر دے گی۔ کئی عالمی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے گروہ طالبان حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور خواتین کو تعلیم و ادب کے شعبے میں برابر کے مواقع فراہم کرے۔

طالبان کے اس فیصلے کے بعد ملک میں خواتین کی تخلیقی اور علمی سرگرمیوں پر ایک سنجیدہ بحران پیدا ہو گیا ہے، اور افغان معاشرے میں اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے